کبھی کبھی سفر کے دوران کوئی معمولی سا منظر انسان کو اپنے معاشرے کے بارے میں بہت بڑے سوال سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ میں یہاں جب پارک یا جنگل کے قریب واک کرتے ہوئے جب کسی نوجوان لڑکی کو اکیلے بے فکری سے چلتے دیکھتی ہوں تو ذہن میں اپنے معاشرے کا خیال آتا ہے، جہاں والدین کمسن بچوں کو چند لمحوں کے لیے بھی تنہا چھوڑتے ہوئے کئی خدشات میں مبتلا رہتے ہیں۔ بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور ان پر ہونے والا ظلم ایک انتہائی دردناک اور سنگین مسئلہ ہے۔ یہ معصوم بچے ہمارے معاشرے کا سب سے کمزور حصہ ہیں، جن کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے سوال یہ ہے کہ آخر ہم ایسے معاشرے تک کیسے پہنچے جہاں بچوں کا تحفظ ایک مستقل خوف بن گیا ہے؟یہ کہنا درست نہیں کہ کسی ایک ملک میں برائی نہیں اور دوسرے ملک میں برائی ہے برا انسان ہر معاشرے میں موجود ہو سکتا ہے۔ فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ معاشرہ برائی کا مقابلہ کیسے کرتا ہے اور ریاست قانون کی عمل داری کس حد تک یقینی بناتی ہے۔ جہاں قانون کا خوف موجود ہو اور جرم کی صورت میں فوری اور مثر کارروائی کا یقین ہو، وہاں مجرم کے لیے جرم کرنا آسان نہیں رہتا۔بچے کسی بھی معاشرے کا سب سے نازک اور قیمتی حصہ ہوتے ہیں۔ ان کی حفاظت صرف والدین کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ والدین یقینا اپنی اولاد کی تربیت اور نگرانی کے ذمہ دار ہیں، مگر وہ ہر وقت بچے کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ بچہ اسکول جاتا ہے، کھیلنے باہر نکلتا ہے، رشتہ داروں اور دوستوں سے ملتا ہے۔ اس لیے ایک محفوظ معاشرے کی ضرورت ہے جہاں بچے کو ہر قدم پر خطرے کے اندیشے میں نہ رکھا جائے۔یہاں تربیت کا سوال بھی بہت اہم ہے۔ معاشرتی بگاڑ صرف قانون کی کمزوری سے پیدا نہیں ہوتا، اس کی بنیاد گھر سے بھی پڑتی ہے۔ بچے کو شروع ہی سے یہ سکھانا ضروری ہے کہ کسی دوسرے کی عزت، جسمانی حدود اور نجی زندگی کا احترام کیا جاتا ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ غلط رویہ خواہ کسی اجنبی کی طرف سے ہو یا کسی جاننے والے کی طرف سے، اسے خاموشی سے برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ بھی سکھانا ہوگا کہ خاموشی ہمیشہ شرافت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی غلط رویہ اختیار کرے تو آواز اٹھانا، مدد طلب کرنا اور کسی قابلِ اعتماد شخص کو بتانا کمزوری نہیں بلکہ سمجھ داری ہے۔ والدین کو بچوں کے ساتھ ایسا اعتماد کا رشتہ قائم کرنا چاہیے کہ بچہ خوف یا شرمندگی کے بغیر اپنی بات کہہ سکے۔بچے کو اتنا اعتماد دیں کہ وہ کسی غیر یا اپنے کے کسی بھی غلط روئیے کو والدین سے کہتے نہ ڈریں ۔لیکن کیا صرف والدین کو ذمہ دار قرار دے کر ہم اپنی ذمہ داری پوری کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔اگر کوئی جرم ہوتا ہے تو معاشرے کا سوال ریاست سے بھی ہونا چاہیے۔ حکومت کی ذمہ داری صرف سڑکیں، پل اور عمارتیں بنانا نہیں بلکہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا بھی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمارے بچے گلی محلوں میں آسانی سے کھیل سکیں اور آ جا سکیں دکانوں سے چیزیں خرید سکیں اور انہیں کوئی ہاتھ تک لگانے کی ہمت نہ کر سکے۔ مدرسوں اور تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد اور جسمانی سزاوں کے واقعات ایک سنگین اور قابلِ تشویش مسئلہ ہیں۔ ان واقعات میں اساتذہ کی طرف سے بچوں پر جسمانی اور ذہنی تشدد کیا جاتا ہے، جو بعض اوقات المناک اموات کا باعث بھی بنتا ہے۔ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ
قوانین تو بنا دیے جاتے ہیں ان پر عمل درآمد یقینی نہیں بنایا جاتا جبکہ عمل درآمد یقینی بنانے تک ٹھوس نتائج حاصل کرنا ناممکن ہو گا۔ یہاں ترقی یافتہ ممالک ایک اور بات قابلِ غور ہے۔ کبھی کبھی ہمارے موبائل فون پر اچانک تیز سائرن کے ساتھ حکومتی الرٹ آتا ہے۔ یہ اطلاع کسی خطرناک شخص، لاپتہ بچے یا کسی ایسے واقعے کے بارے میں ہو سکتی ہے جس میں عوام کو محتاط رہنے کی ضرورت ہو۔ چند لمحوں کے لیے پورا ماحول چونک جاتا ہے، مگر اس ایک الرٹ کے پیچھے ریاست کی ایک اہم ذمہ داری نظر آتی ہے: شہریوں کو خطرے سے بروقت آگاہ کرنا بچوں کے خلاف جرائم کی شکایت کے لیے آسان اور محفوظ نظام، اسکولوں میں حفاظتی آگاہی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائی اور مجرم کو قانون کے مطابق سزا یہ سب ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ قانون صرف کتاب میں موجود ہو تو کافی نہیں۔ قانون کا اصل اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عام شہری کو یقین ہو کہ جرم کرنے والا خواہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، اسے قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی یقین معاشرے میں قانون کا احترام پیدا کرتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں کبھی کبھی کسی واقعے کے بعد چند دن شور مچتا ہے، مذمت ہوتی ہے، بحث ہوتی ہے اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مگر بچوں کے تحفظ کے لیے مستقل نظام اور مسلسل اجتماعی شعور کی ضرورت ہے۔ کسی ایک افسوسناک واقعے کے بعد جذباتی ردعمل کافی نہیں؛ ہمیں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں جرم ہونے سے پہلے ہی اس کے امکانات کم ہوں اور جرم ہونے کی صورت میں کارروائی یقینی ہو۔ایک سانحہ گزرتا ہے وقتی شور شرابا اور پھر خاموشی اور پھر نئے سانحے کا انتظار کیا جاتا ہے والدین کی لاپرواہی بھی ایک حقیقت ہیکبھی مصروف زندگی، کبھی ضرورت سے زیادہ اعتماد اور کبھی بچوں کے ساتھ ضروری گفتگو نہ کرنا انہیں خطرات سے بے خبر رکھتا ہے۔ مگر دوسری طرف والدین سے یہ توقع بھی نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنے بچوں کو دنیا سے کاٹ کر رکھیں۔ بچے کو محفوظ بنانے کا بہترین طریقہ اسے خوف زدہ کرنا نہیں بلکہ باخبر، بااعتماد اور محتاط بنانا ہے۔کیا چھوٹے بچوں کو گھر میں قید کیا جائے کہ گھر سے باہر درندے گھوم رہے ہیں کیا حکومت کی زمہ داری نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ کے لئے سخت قوانین بنائیں یہاں سوال پھر وہی ہے: ہم اپنے بچوں کو کس قسم کا معاشرہ دینا چاہتے ہیں؟ایسا معاشرہ جہاں ماں باپ ہر وقت خوفزدہ رہیں کہ بچہ گھر سے باہر نکلا تو کیا ہوگا؟ یا ایسا معاشرہ جہاں بچے بھی باقی دنیا کے بچوں کی طرح پارک میں کھیل سکیں، راستے میں چل سکیں اور اپنے اردگرد کے لوگوں پر بنیادی اعتماد کر سکیں؟ایک محفوظ معاشرہ صرف قانون سے نہیں بنتا، مگر قانون کے بغیر بھی محفوظ معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ گھر بچے کی تربیت کرتا ہے، معاشرہ اس کی حفاظت کا ماحول بناتا اورریاست قانون کے ذریعے اس تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔ جب یہ تینوں اپنی ذمہ داری پوری کریں گے تب ہی ہمارے بچے خوف کے سائے سے نکل کر ایک محفوظ اور بااعتماد زندگی کی طرف بڑھ سکیں گے ۔بچوں اور خواتین کا تحفظ صرف گھر کی چار دیواری تک محدود ذمہ داری نہیں۔ والدین اپنے بچوں کی تربیت اور نگرانی کرتے ہیں، لیکن قانون کا نفاذ، مجرموں کا تعاقب، عوام کو خطرے سے خبردار کرنا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔شاید اسی لیے ایک محفوظ معاشرے میں والدین اپنے بچوں کو دنیا سے چھپا کر نہیں رکھتے؛ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی خطرہ پیدا ہوا تو صرف وہ اکیلے ذمہ دار نہیں ہوں گے، ریاستی نظام بھی حرکت میں آئے فوری اور سخت سزائیں: مجرموں کو سرعام اور عبرتناک سزائیں دی جائیں تاکہ دوسرے عبرت پکڑیں۔سخت آن لائن نگرانی: بچوں کے موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال پر کڑی نظر رکھیں۔ہمارے معاشرے میں جب بھی بچوں کے
ساتھ زیادتی یا کسی بھی سنگین جرم کا واقعہ سامنے آتا ہے تو بحث کا رخ اکثر اصل مسئلے سے ہٹ کر متاثرہ شخص کی طرف مڑ جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بچہ کہاں تھا، اکیلا کیوں تھا یا اس کے ساتھ کیا ہوا تھا، بلکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ جرم کرنے والا اتنا بے خوف اور بے لگام کیسے ہوا؟یہی وہ بنیادی فکری غلطی ہے جسے ہم Victim Blaming کہتے ہیں، یعنی متاثرہ شخص کو ہی کسی نہ کسی طرح ذمہ دار ٹھہرانا۔ یہ سوچ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ معاشرتی طور پر بھی انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ یہ مجرم کے حوصلے بڑھاتی ہے اور اصل مسئلے کو چھپا دیتی ہے۔معاشرے میں حدود اور احترام کا فقدان قانون کے خوف کی کمی مجرموں کو ملنے والی نرمی یا اثر و رسوخ کا کلچریہ وہ عوامل ہیں جو ایک فرد کو جرم کی طرف دھکیلتے ہیں اور پھر اسے بے خوف بنا دیتے ہیں۔اگر ہم اپنی نئی نسل کو یہ شعور دیں تو بہت سے جرائم کی جڑیں خود بخود کمزور ہو سکتی ہیں۔غیر اخلاقی مواد اور برے دوستوں کی صحبت سے بچوں کو بچائیں اجتماعی ذمہ داری صرف والدین نہیں بچوں کی حفاظت صرف والدین کی ذمہ داری نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک اجتماعی فریضہ ہے جس میں گھراسکول، معاشرہ اور مذہبی و سماجی اداریسب کا کردار شامل ہے۔ اگر یہ تمام ادارے مل کر اخلاقی تربیت اور شعور پیدا کریں تو ایک محفوظ ماحول تشکیل دیا جا سکتا ہے۔قانون اور ریاستی نظام کا کردارصرف اخلاقی نصیحت کافی نہیں ہوتی۔ جب تک قانون مثر، فوری اور غیر جانبدار نہ ہو، جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ ضروری ہے کہ:مجرم کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیسفارش اور اثر و رسوخ کا کلچر ختم ہو متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ اور سہولت دی جائینظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد بحال ہوقانون کا خوف ہی وہ عنصر ہے جو مجرم کو جرم سے روکتا ہے۔بچوں کو خوف نہیں، شعور دینا ہیبچوں کی حفاظت کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ہر وقت خوف میں رکھا جائے۔ بلکہ انہیں یہ سکھانا ضروری ہے کہ ان کا جسم ان کی اپنی ملکیت ہیکوئی بھی شخص ان کی حدود کی خلاف ورزی نہیں کر سکتااگر کوئی چیز انہیں غیر آرام دہ محسوس ہو تووہ فورا کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتائیں یہ شعور انہیں محفوظ بھی بناتا ہے اور اعتماد بھی دیتا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ انصاف جذباتی ردعمل کا نام نہیں بلکہ ایک منظم اور مضبوط نظام کا نام ہے۔
پاکستان کی معیشت کی تاریخ میں قرض کوئی نیا لفظ نہیں۔ یہ ہماری مالیاتی داستان کا ایسا کردار ہے جو کئی دہائیوں سے مختلف ناموں، مختلف اداروں اور مختلف شرائط کے ساتھ ہمارے ساتھ چلتا آیا ہے۔ کبھی بیرونی امداد کے نام پر، کبھی ترقیاتی قرض کے عنوان سے، کبھی بجٹ سپورٹ اور کبھی کسی...
آج کے دور میں خبر تک پہنچنے کے لیے اخبار کے اگلے دن کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ موبائل فون کھولیں اور دنیا بھر کی خبریں چند سیکنڈ میں سامنے آجاتی ہیں۔ یہ سہولت بلاشبہ ایک انقلاب ہے، لیکن اس انقلاب کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ اب جھوٹی خبر بھی سچ کی رفتار سے...
یہ اہم سوال ہے ؟نئے صوبے بنانا اور ملک کے معاشی مسائل حل ہونا دو الگ چیزیں ہیں نئے صوبے بعض انتظامی مسائل کم کر سکتے ہیں، مگر صرف نقشے پر نئی حد بندی کر دینے سے مہنگائی، قرض، کمزور برآمدات، بے روزگاری یا کم ٹیکس وصولی ختم نہیں ہوگی۔حالیہ بحث میں بھی یہی بنیادی...
نیپال میں نصف کلومیٹر سے بڑا برفانی تودہ ہزاروں فٹ نیچے گرا، برف، چٹان، مٹی اور پانی کے ریلے نے بستیاں، سڑکیں اور پل بہا دیے؛ ماہرین نے گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے کو خطرے کی بڑی وجہ قرار دے دیا ہے۔ ہمالیہ کی بلند و بالا چوٹیوں کو دیکھ کر شاید ہی کوئی تصور...