آج کے دور میں خبر تک پہنچنے کے لیے اخبار کے اگلے دن کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ موبائل فون کھولیں اور دنیا بھر کی خبریں چند سیکنڈ میں سامنے آجاتی ہیں۔ یہ سہولت بلاشبہ ایک انقلاب ہے، لیکن اس انقلاب کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ اب جھوٹی خبر بھی سچ کی رفتار سے نہیں بلکہ بعض اوقات سچ سے کہیں زیادہ تیزی سے سفر کرتی ہے۔
حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر جاپان کے بارے میں ایک ایسا ہی دعوی گردش کرتا رہا جس نے بہت سے لوگوں کو حیران کردیا۔ مختلف پوسٹس میں کہا گیا کہ جاپان نے مبینہ طور پر اسلام مخالف قوانین نافذ کردیے ہیں، جن کے تحت مساجد، برقع، حلال کھانے اور اذان پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پوسٹس کا انداز ایسا تھا کہ پڑھنے والے کے لیے فورا جذباتی ردعمل دینا آسان تھا۔ کسی نے غصے کا اظہار کیا، کسی نے جاپان کے بائیکاٹ کی بات کی اور کسی نے اسے مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کی ایک اور مثال قرار دے دیا۔
لیکن بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا کسی نے اس خبر کی تصدیق بھی کی؟
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ریوٹرز کے مطابق جاپان کی وزارت تعلیم، ثقافت، کھیل، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ترجمان نے ان دعووں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست نہیں ہیں۔ جاپانی حکام کے مطابق ایسا کوئی قانون یا ضابطہ نافذ نہیں کیا گیا جس کے تحت مساجد، حلال خوراک، برقع یا اذان پر پابندی عائد کی گئی ہو۔
یعنی سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی یہ سنسنی خیز خبر، خبر نہیں بلکہ جھوٹ تھی۔
یہاں معاملہ صرف جاپان کا نہیں بلکہ اس نظام کا ہے جس کے ذریعے آج جھوٹ کو خبر بنا کر دنیا بھر میں پھیلا دیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں خبر شائع کرنے کے لیے صحافتی تربیت، ادارتی نگرانی، دستاویزات یا متعدد ذرائع کی تصدیق ضروری نہیں۔ ایک شخص چند الفاظ لکھتا ہے، ایک پرانی تصویر یا غیر متعلقہ ویڈیو لگاتا ہے اور ایسا عنوان دے دیتا ہے جو لوگوں کے جذبات کو بھڑکا دے۔ چند افراد اسے شیئر کرتے ہیں، پھر درجنوں اور سینکڑوں لوگ بغیر سوچے سمجھے آگے بھیج دیتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں ایک جھوٹ ہزاروں اسکرینوں تک پہنچ جاتا ہے۔
جھوٹ پھیلانے والے کو اکثر اس بات کی ضرورت بھی نہیں ہوتی کہ لوگ اس پر مکمل یقین کریں۔ اسے صرف اتنا چاہیے کہ لوگ اسے آگے شیئر کردیں۔
یہی سوشل میڈیا کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔
جھوٹے دعوے عموما ایسے موضوعات پر بنائے جاتے ہیں جو لوگوں کے جذبات سے براہ راست جڑے ہوں۔ مذہب، قومیت، سیاست، جنگ اور مختلف ممالک کے بارے میں سنسنی خیز دعوے اسی لیے زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں۔ جاپان نے مساجد بند کردیں جیسا جملہ ایک عام خبر سے کہیں زیادہ تیزی سے وائرل ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں خبر سے زیادہ جذبات شامل ہوتے ہیں۔
جو شخص اسے پڑھتا ہے، وہ پہلے غصے میں آتا ہے اور بعد میں سوچتا ہے۔
صحافت کا اصول اس کے برعکس ہے۔ صحافت پہلے سوال کرتی ہے، پھر تصدیق کرتی ہے، مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرتی ہے اور اس کے بعد خبر شائع کرتی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ دنیا میں ترتیب اکثر الٹ ہوتی ہے: پہلے پوسٹ شائع ہوتی ہے، پھر وائرل ہوتی ہے اور اگر کوئی اعتراض کرے تو کہا جاتا ہے کہ ہم نے تو سنا تھا یا کسی نے بھیجا تھا۔
مسئلہ یہ ہے کہ جھوٹ ڈیلیٹ کرنے سے اس کا اثر ہمیشہ ختم نہیں ہوتا۔
ایک غلط خبر ہزاروں یا لاکھوں لوگوں کے ذہن میں ایک تصور پیدا کرچکی ہوتی ہے۔ بعد میں تردید بھی آجائے تو بہت سے لوگ اسے نہیں دیکھتے۔ جھوٹ کی پہلی پوسٹ وائرل ہوجاتی ہے جبکہ سچ کی وضاحت اکثر محدود لوگوں تک پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیک نیوز اب صرف صحافت کا مسئلہ نہیں بلکہ سماجی اور قومی مسئلہ بن چکی ہے۔
جاپان کے معاملے میں حقائق ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
جاپان کے آئین کا آرٹیکل 20 تمام افراد کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ جاپانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مساجد، حلال خوراک، برقع یا اذان پر پابندی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوں کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔ ملک کے مختلف بڑے شہروں میں مساجد موجود ہیں اور مسلمان اپنی مذہبی عبادات انجام دیتے ہیں۔
جاپان کی نیشنل ٹورازم آرگنائزیشن بھی مسلمان سیاحوں کے لیے معلومات اور سہولیات فراہم کرتی ہے۔ مختلف علاقوں میں حلال خوراک کے ریسٹورنٹس، مسلم فرینڈلی سہولیات، مساجد اور مسلمان سیاحوں کے لیے دیگر انتظامات موجود ہیں۔ یہ حقائق اس دعوے سے بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں کہ جاپان نے اسلام یا مسلمانوں کے خلاف کوئی ملک گیر پابندی عائد کردی ہے۔
یقینا ہر ملک کے اپنے قوانین اور انتظامی ضابطے ہوتے ہیں۔ مذہبی مقامات، تعمیرات، شور، لباس یا عوامی سرگرمیوں سے متعلق مقامی قواعد بھی ہوسکتے ہیں۔ لیکن کسی مخصوص انتظامی ضابطے کو اٹھا کر اسے اسلام پر مکمل پابندی بنا دینا یا کسی ایک واقعے کو پورے ملک کی پالیسی قرار دینا صحافت نہیں، گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔
یہاں ہمیں ایک اہم حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے: ہر وہ چیز جو سوشل میڈیا پر ہزاروں مرتبہ شیئر ہو، ضروری نہیں کہ سچ ہو۔
شیئرز کی تعداد کسی خبر کی سچائی کا ثبوت نہیں۔ ویوز کی تعداد بھی حقیقت کی ضمانت نہیں اور لاکھوں فالوورز رکھنے والا اکانٹ بھی غلط معلومات پھیلا سکتا ہے۔ حقیقت کا پیمانہ صرف تصدیق ہے۔
اگر کوئی پوسٹ کہتی ہے کہ فلاں ملک نے مسلمانوں کے خلاف نیا قانون نافذ کردیا تو سب سے پہلے سوال ہونا چاہیے کہ قانون کا نام کیا ہے؟ کب نافذ ہوا؟ کس ادارے نے اسے منظور کیا؟ سرکاری اعلامیہ کہاں ہے؟ معتبر عالمی خبر رساں اداروں نے کیا رپورٹ کیا؟ متعلقہ حکومت کا مقف کیا ہے؟
اگر ان سوالوں کا جواب موجود نہیں تو خبر کو فورا آگے بڑھانے کے بجائے رک جانا چاہیے۔
آج تقریبا ہر ملک کی سرکاری ویب سائٹس، وزارتیں، سفارت خانے اور معتبر عالمی خبر رساں ادارے موجود ہیں۔ کسی بڑے قانون یا قومی پالیسی کو مکمل طور پر چھپانا آسان نہیں۔ اگر واقعی جاپان نے مساجد، برقع، حلال خوراک اور اذان پر ملک گیر پابندی لگادی ہوتی تو یہ دنیا بھر کے بڑے اخبارات، ٹیلی ویژن چینلز اور نیوز ایجنسیوں کی اہم خبر ہوتی۔ اسے صرف کسی نامعلوم سوشل میڈیا اکانٹ یا واٹس ایپ فارورڈ کے ذریعے جاننے کی ضرورت نہ پڑتی۔
مگر سوشل میڈیا پر مسئلہ یہ ہے کہ سنسنی اکثر سچ سے زیادہ منافع بخش ہوتی ہے۔
ایک متوازن عنوان شاید محدود تعداد میں لوگ پڑھیں، لیکن مسلمانوں کے لیے بڑا جھٹکا، جاپان نے اسلام پر پابندی لگادی جیسا عنوان لاکھوں کلکس حاصل کرسکتا ہے۔ کلکس سے ویوز آتے ہیں اور ویوز سے شہرت یا مالی فائدہ۔ اسی دوڑ میں بعض لوگ خبر کی سچائی سے زیادہ اس کی وائرل ہونے کی صلاحیت دیکھنے لگتے ہیں۔
یہ رویہ اس لیے خطرناک ہے کہ جھوٹی خبر صرف غلط معلومات نہیں پھیلاتی بلکہ لوگوں کے درمیان نفرت بھی پیدا کرسکتی ہے۔ کسی قوم یا ملک کے بارے میں غلط تصور قائم ہوسکتا ہے، مذہبی جذبات بھڑک سکتے ہیں اور ملکوں کے درمیان موجود فاصلے مزید بڑھ سکتے ہیں۔
اسی لیے سوشل میڈیا صارف اب صرف صارف نہیں رہا، وہ کسی حد تک خبر کا تقسیم کار بھی بن چکا ہے۔
جب ہم کوئی پوسٹ شیئر کرتے ہیں تو دراصل ہم اس کی تشہیر کی ذمہ داری میں حصہ لیتے ہیں۔ اگر خبر سچی ہے تو ہم درست معلومات پھیلاتے ہیں، لیکن اگر جھوٹی ہے تو ہم انجانے میں پروپیگنڈے کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ شیئر کا بٹن دبانے سے پہلے چند لمحے ضرور سوچیں۔
کیا یہ خبر کسی معتبر ذریعے نے دی ہے؟ کیا اس میں تاریخ اور اصل حوالہ موجود ہے؟ کیا تصویر یا ویڈیو واقعی اسی واقعے کی ہے؟ کیا متعلقہ
حکومت یا ادارے نے اس کی تصدیق کی ہے؟ اور سب سے اہم سوال: کیا یہ خبر میرے جذبات کو اتنا بھڑکا رہی ہے کہ میں سوچنے سے پہلے ہی اسے آگے بھیج دوں؟
اگر جواب ہاں ہے تو شاید یہی وہ لمحہ ہے جب رک کر تصدیق کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔
جاپان کے بارے میں مساجد، برقع، حلال کھانے اور اذان پر پابندی کا جھوٹا دعوی ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے۔ ڈیجیٹل دور میں جھوٹ صرف بول کر نہیں پھیلایا جاتا، اسے ڈیزائن کیا جاتا ہے، جذباتی عنوان دیا جاتا ہے اور پھر وائرل ہونے کے لیے سوشل میڈیا کے حوالے کردیا جاتا ہے۔
اس کا مقابلہ صرف حکومتیں یا فیکٹ چیکنگ ادارے نہیں کرسکتے۔ ہر صارف کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگی۔ ہمیں خبر پڑھنے کے ساتھ خبر کو پرکھنے کی عادت پیدا کرنا ہوگی۔
کیونکہ آج سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس معلومات کم ہیں۔ خطرہ یہ ہے کہ ہمارے پاس معلومات اتنی زیادہ ہیں کہ جھوٹ، سچ کے ہجوم میں چھپ جاتا ہے۔
جاپان کے معاملے میں حقیقت سامنے آگئی۔ ایسا کوئی قانون نافذ نہیں ہوا جس کے تحت ملک بھر میں مساجد، برقع، حلال خوراک یا اذان پر پابندی عائد کردی گئی ہو۔ جاپانی حکام نے ان دعوں کی تردید کی، جبکہ مذہبی آزادی سے متعلق آئینی ضمانت اور ملک میں مسلمانوں کے لیے موجود سہولیات بھی اس وائرل دعوے کی حقیقت واضح کرتی ہیں۔
مگر اصل سوال صرف جاپان کا نہیں، ہم سب کا ہے۔
اگلی مرتبہ جب ہمارے موبائل پر کوئی چونکا دینے والی خبر آئے گی تو ہم کیا کریں گے؟ فورا شیئر کریں گے یا پہلے سچ تلاش کریں گے؟
ڈیجیٹل دور میں شاید یہی فرق ایک ذمہ دار شہری اور ایک غیر ارادی طور پر جھوٹ پھیلانے والے کے درمیان سب سے بڑی لکیر ہے۔
سوشل میڈیا نے ہر شخص کو خبر پہنچانے کی طاقت دی ہے، لیکن اس طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی دی ہے۔ یاد رکھیے، جھوٹ لکھنے والا ایک شخص ہوسکتا ہے، مگر اسے وائرل کرنے والے ہم سب بن سکتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت کی تاریخ میں قرض کوئی نیا لفظ نہیں۔ یہ ہماری مالیاتی داستان کا ایسا کردار ہے جو کئی دہائیوں سے مختلف ناموں، مختلف اداروں اور مختلف شرائط کے ساتھ ہمارے ساتھ چلتا آیا ہے۔ کبھی بیرونی امداد کے نام پر، کبھی ترقیاتی قرض کے عنوان سے، کبھی بجٹ سپورٹ اور کبھی کسی...
یہ اہم سوال ہے ؟نئے صوبے بنانا اور ملک کے معاشی مسائل حل ہونا دو الگ چیزیں ہیں نئے صوبے بعض انتظامی مسائل کم کر سکتے ہیں، مگر صرف نقشے پر نئی حد بندی کر دینے سے مہنگائی، قرض، کمزور برآمدات، بے روزگاری یا کم ٹیکس وصولی ختم نہیں ہوگی۔حالیہ بحث میں بھی یہی بنیادی...
نیپال میں نصف کلومیٹر سے بڑا برفانی تودہ ہزاروں فٹ نیچے گرا، برف، چٹان، مٹی اور پانی کے ریلے نے بستیاں، سڑکیں اور پل بہا دیے؛ ماہرین نے گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے کو خطرے کی بڑی وجہ قرار دے دیا ہے۔ ہمالیہ کی بلند و بالا چوٹیوں کو دیکھ کر شاید ہی کوئی تصور...
انسانی زندگی ایک مسلسل سفر کا نام ہے؛ ایسا سفر جس میں ہر شخص اپنی صلاحیت، قسمت، محنت اور حالات کے مطابق آگے بڑھتا ہے۔ کوئی جلد اپنی منزل پا لیتا ہے، کوئی دیر سے کامیابی کے دروازے تک پہنچتا ہے، کوئی بار بار گر کر سنبھلتا ہے اور کوئی خاموشی سے مسلسل جدوجہد کرتے...